Saturday, April 15, 2023

انڈیا ٹیکنالوجی میں آگے کیوں؟

 ایک شور مچا ہوا ہے کہ بھارت آئی فون کی مارکیٹ لے اڑا۔ اس سال اتنے آئی فون بنائے گا، اتنے ارب ڈالر آئیں گے لیکن ہم کیا کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

حضور والا بات سیدھی سی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بحیثیت قوم ہم کس چیز میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں؟ کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمیں واقعی حقیقی معنوں میں ٹیکنالوجی کی خبریں جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے؟ ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اپنا جو وقت صرف کرتے ہیں ان کا کتنے فی صد ٹیکنالوجی کے بارے میں جاننے پر ہوتا ہے؟ چاہت فتح علی خان ، تہذیب حافی، پواڑی گرل وغیرہ سے تو ہم نکل نہیں پاتے۔ چیف جسٹس، آرمی چیف، نواز شریف ، عمران خان، وغیرہ کے علاوہ ہمیں خبریں دیکھنا بھی پسند نہیں تو قوم کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترقی کرے گی۔
یوٹیوب پر بھارت کے انسٹرکٹرز کی ایک دنیا معترف ہے۔ ویب ڈویلپمنٹ سے لے کر مارکیٹنگ تک ہر شعبے میں ان کے ماہرین چھائے ہوئے ہیں۔ ایسی ویڈیوز کے ویوز لاکھوں کروڑوں میں ہوتے ہیں۔ اور ہمارے ہاں؟؟؟؟؟؟؟ لڑکی کے ساتھ ایسا کیا ہو گیا کہ آپ کا دل لرز اٹھے، ایسی خبر کہ جان کر آپ بھی توبہ توبہ کر اٹھیں، اس ویڈیو کو بچے نہ دیکھیں، ایسی ویڈیو لیک ہو گئی کہ سر شرم سے پانی پانی ہو جائے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
میڈیا پہ الزام نہیں دھرا جا سکتا کیونکہ میڈیا وہی دکھا رہا ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم سائنس و ٹیکنالوجی میں دلچسپی لینا شروع کر دیں تو میڈیا پر باقی سارے پروپیگنڈے اپنی موت آپ مر جائیں۔ یہاں ایک انسان اپنی جیب سے لاکھوں لگا کر "گلوبل سائنس" جیسا عالمی میعاری رسالہ نکالتا رہا۔ اور بالآخر اسے ہماری عدم دلچسپی سے تنگ آ کر بند کرنا پڑا۔ ماہنامہ کمپیوٹنگ کی ویب سائٹ صرف اس لیے بند ہو گئی کیونکہ اس پر "یہ مجرب عمل کرنے سے راتوں رات کروڑ پتی بن جائیں گے" جیسے آرٹیکلز نہیں لگتے تھے۔ کبھی بھارت سے شائع ہونے والے خالی اردو سائنسی جرائد کے بارے میں سرچ کیجیے گا لگ پتہ جائے گا۔
لیس للانسان الا ما سعیٰ °
انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
بھارت آج آئی فون بنا رہا ہے۔ کل مصنوعی ذہانت میں آگے بڑھ جائے گا۔ اور ہمارے ہاں مصنوعی ذہانت کے ماہرین ناحق قتل ہوتے رہیں گے۔ اور ہم اس بات پر روتے رہیں گے کہ میں نے فلاں عالم کی تصویر لگائی تو بھارت سے آپریٹ ہونے والے فیسبک دفتر سے آئی ڈی بلاک کر دی گئی۔
حکومت تو خیر انکم اسپورٹ، احساس، آٹے راشن سے آگے نہیں نکل سکتی کیونکہ ان کی سوچ ہی اتنی ہے۔ لیکن معذرت کے ساتھ آپ بھی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں۔ جب تک قوم میں یہ شعور نہیں آتا کہ ہم ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں تازہ ترین کے بارے میں جانیں۔ سمجھیں، تب تک ہم بس کڑھنے لائق ہی ہیں۔ بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو پہلے ٹیکنالوجی سے دلچسپی پیدا کریں۔ وقت کے ساتھ خود کو ڈھالیں، ٹیکنالوجی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ پھر دیکھیں کیسے آئی فون، اسپیس ایکس، گوگل، میٹا جیسی کمپنیاں بھاگی بھاگی آپ کے پاس آتی ہیں۔

Wednesday, April 17, 2019

ایپوامیا گرینڈ اجلاس ملتان

ایپوامیا گرینڈ اجلاس۔۔۔ ملتان



السلام علیکم۔۔۔
دوستو، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اعلی حکام کی جانب سے واٹر مینجمنٹ ملازمین کے حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ نا تو ہماری اسکیل 11 سے 14 میں اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔ حالانکہ دیگر محکمہ جات کے ملازمین گریڈ 16 کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ نا ہی بار بار وعدوں کے باوجود مستقل کیا جا رہا ہے۔ اور نا ہی کمپیوٹر آپریٹرز سمیت نوکری سے نکالے گئے تمام ساتھیوں کو بحال کیا جا رہا ہے۔ اور ایس این ای اسٹاف کو ہے پروٹیکشن بھی نہیں دی جا رہی۔  باوجود اس کے کہ لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان نے ہمارے حق میں فیصلہ بھی دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر متضاد اور پریشان کن اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔

اس سارے تناظر میں پنجاب کے اسٹاف میں مستقبل کے حوالے سے شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کابینہ ایپوامیا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ منگل 23 اپریل 2019 کو پنجاب بھر کے تمام اسٹاف کا گرینڈ اجلاس ملتان میں منعقد کیا جائے۔ اجلاس میں واٹر مینجمنٹ آفیسرز سمیت، سپروائزرز ( ریگولر، ایس این ای، پراجیکٹ، نیو پراجیکٹ)، کمپیوٹر آپریٹرز، راڈ مین، نائب قاصد اور درجہ چہارم کے تمام دیگر ملازمین کو مدعو کیا جاتا ہے۔
گرینڈ اجلاس کا ایجنڈا درج ذیل ہے۔

  1. ناحق برطرفی کیے گئے تمام ملازمین کی بحالی
  2. دیگر محکموں کے سب انجینئرز کی طرح اسکیل 14 میں ترقی
  3. تنخواہوں کا تحفظ
  4. تمام کیڈرز کی مستقلی
  5. مستقبل کے حوالے سے دیگر لائحہ عمل کی تشکیل

آپ سے درخواست ہے کہ اجلاس میں لازمی شرکت کریں۔
ور ہر کیڈر و کیٹیگری سے نمائندگی کریں تا کہ باہمی گفت و شنید کے بعد مشترکہ طور پر متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جا سکے۔

گرینڈ اجلاس:
دن: منگل
تاریخ: 23 اپریل 2019
وقت: دس بجے صبح
مقام: ملتان (عین مقام واٹس اپ اور فیس بک گروپ میں ہفتہ تک شئیر کر دیا جائے گا)

چلو چلو۔۔۔ ملتان چلو


منجانب: صدر و کابینہ ایپوامیا، پنجاب
(ندیم رزاق کھوہارا۔ سیکرٹری پریس و انفارمیشن ایپوامیا پنجاب)